اس صفحے پر
اہم باتیں
- انڈیا کے حاجی عام طور پر حجِ تمتع کرتے ہیں: پہلے عمرہ، پھر نئے احرام میں حج۔
- 9 ذوالحجہ کو عرفات میں ٹھہرنا حج کا سب سے اہم حصہ ہے۔
- 10 ذوالحجہ کو: جمرۂ عقبہ کی رمی، قربانی، حلق یا تقصیر، پھر طوافِ افاضہ (طوافِ زیارت) اور سعی۔
- 11 سے 13 ذوالحجہ تک حاجی تینوں جمرات کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں۔
- مسلکوں میں مسئلوں کی رائے الگ الگ ہے، اس لیے تفصیل کسی مستند عالم سے سیکھیں اور اپنے گروپ کی رہنمائی پر چلیں۔
حج کی تین قسمیں
حج ادا کرنے کے تین طریقے ہیں۔ آپ کو کس کی نیت کرنی ہے، یہ آپ کے عالم صاحب اور گروپ بتائیں گے۔
- تمتع: حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ، پھر احرام کھول دینا، اور 8 ذوالحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنا۔ قربانی ضروری ہے۔ انڈیا کے حاجی عام طور پر یہی حج کرتے ہیں۔
- قران: عمرہ اور حج ایک ہی احرام میں ساتھ ساتھ، بیچ میں احرام کھولے بغیر۔ قربانی ضروری ہے۔
- اِفراد: صرف حج، ایک احرام میں۔ قربانی ضروری نہیں، البتہ کی جا سکتی ہے۔
دن بہ دن: 8 سے 13 ذوالحجہ
- 1
قدم 1
8 ذوالحجہ: منیٰ کی طرف
حجِ تمتع کرنے والے مکہ میں جہاں ٹھہرے ہیں وہیں سے دوبارہ احرام باندھتے ہیں، حج کی نیت کرتے ہیں اور تلبیہ شروع کرتے ہیں۔ گروپ منیٰ کے خیموں میں جاتے ہیں، اور ظہر، عصر، مغرب، عشا اور اگلے دن کی فجر وہیں پڑھتے ہیں۔ یہ آرام، عبادت اور تیاری کا دن ہے۔
- 2
قدم 2
9 ذوالحجہ: یومِ عرفہ
سورج نکلنے کے بعد حاجی عرفات جاتے ہیں۔ اس دن عرفات میں ہونا (وقوف) حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ ظہر اور عصر پڑھی جاتی ہے، اور باقی دن سورج ڈوبنے تک دعا، ذکر اور قرآن میں گزرتا ہے۔ عرفات کی حد کے اندر ہی رہیں؛ حد کہاں ہے، یہ آپ کا گروپ دکھا دے گا۔
- 3
قدم 3
عرفہ کے بعد کی رات: مزدلفہ
سورج ڈوبنے کے بعد حاجی عرفات سے مزدلفہ کے لیے نکلتے ہیں۔ وہاں مغرب اور عشا ساتھ پڑھی جاتی ہے، اور رات کھلے آسمان کے نیچے گزرتی ہے۔ بہت سے حاجی رمی کے لیے چھوٹی کنکریاں یہیں سے چنتے ہیں۔
- 4
قدم 4
10 ذوالحجہ: عید کا دن
مزدلفہ میں فجر کے بعد حاجی منیٰ واپس آتے ہیں۔ یہ حج کا سب سے مصروف دن ہے، جس میں چار کام ہوتے ہیں — ان کی تفصیل اگلے حصے میں ہے۔
- 5
قدم 5
11 اور 12 ذوالحجہ: منیٰ کے دن
حاجی یہ دن اور راتیں منیٰ میں گزارتے ہیں، اور ہر دن تینوں جمرات کی رمی کرتے ہیں۔ 12 تاریخ کی رمی کے بعد حاجی سورج ڈوبنے سے پہلے منیٰ سے نکل سکتے ہیں۔
- 6
قدم 6
13 ذوالحجہ: جو رک جائیں ان کے لیے
جو حاجی 13 کی رات بھی منیٰ میں رہیں، وہ اس دن پھر تینوں جمرات کی رمی کر کے نکلتے ہیں۔ آپ کے گروپ کا پلان کیا ہے، یہ گروپ آپ کو بتا دے گا۔
کچھ گروپ 12 تاریخ کو منیٰ سے نکل جاتے ہیں اور کچھ 13 تک رکتے ہیں۔ دونوں کی اجازت ہے۔
10 ذوالحجہ کی تفصیل
- 1
قدم 1
جمرۂ عقبہ کی رمی
بڑے جمرے (جمرۂ عقبہ) کو ایک ایک کر کے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ “اللہ اکبر” کہیں۔ یہ رمی شروع ہوتے ہی تلبیہ بند ہو جاتا ہے۔
- 2
قدم 2
قربانی
حجِ تمتع یا حجِ قران کرنے والے قربانی کرتے ہیں۔ آج کل یہ عام طور پر کسی منظور شدہ نظام کے ذریعے ہوتی ہے، اور قربانی ہو جانے پر آپ کو بتا دیا جاتا ہے۔
- 3
قدم 3
حلق یا تقصیر
مرد سر منڈواتے ہیں (حلق) یا بال کٹواتے ہیں (تقصیر)؛ خواتین تقریباً انگلی کے ایک پور کے برابر بال کاٹتی ہیں۔ اس کے بعد احرام کی زیادہ تر پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، سوائے میاں بیوی کے تعلقات کے، اور حاجی اپنے عام کپڑے پہن سکتے ہیں۔
- 4
قدم 4
طوافِ افاضہ اور سعی
حاجی مسجد الحرام جا کر طوافِ افاضہ (طوافِ زیارت) کرتے ہیں، جو حج کا رکن ہے، اور پھر سعی کرتے ہیں۔ آپ کی حج کی قسم میں سعی کرنی ہے یا نہیں، اور یہ کام کتنے وقت کے اندر کرنے ہیں، یہ آپ کے عالم صاحب سمجھا دیں گے۔ ان کے بعد احرام کی سب پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
اوپر دی گئی ترتیب عام ترتیب ہے۔ یہ ترتیب کتنی سختی سے رکھنی ہے، اس میں مسلکوں کی رائے الگ ہے، اس لیے اپنے عالم صاحب کی رہنمائی پر چلیں۔
11، 12 اور 13 ذوالحجہ کی رمی
- ہر دن تینوں جمرات کی رمی اسی ترتیب سے کریں: پہلے چھوٹا (جمرۂ اولیٰ)، پھر بیچ والا (جمرۂ وسطیٰ)، پھر بڑا (جمرۂ عقبہ)
- ہر جمرے کو سات کنکریاں، ایک ایک کر کے، اور ہر کنکری کے ساتھ “اللہ اکبر”
- اگر آپ 12 کو نکلیں تو کل 49 کنکریاں چاہییں، اور 13 تک رکیں تو 70؛ کچھ زیادہ رکھ لیں
- ان دنوں میں رمی عام طور پر دوپہر کے بعد ہوتی ہے؛ آپ کا گروپ ایسا وقت بتائے گا جس میں سب سے زیادہ بھیڑ سے بچا جا سکے
- بہت سے حاجی پہلے اور دوسرے جمرے کے بعد رک کر دعا کرتے ہیں
- بیمار، بزرگ اور جو خود نہ جا سکیں، وہ کسی کو اپنی طرف سے رمی کے لیے کہہ سکتے ہیں؛ اس کا طریقہ اپنے عالم صاحب سے پوچھ لیں
طوافِ وداع (رخصت کا طواف)
مکہ سے آخری بار نکلنے سے پہلے حاجی طوافِ وداع کرتے ہیں، تاکہ مکہ میں ان کا آخری کام اللہ کے گھر کے پاس ہو۔ آپ کا گروپ اسے آپ کی روانگی کے قریب رکھے گا۔
جو خواتین اس وقت ماہواری میں ہوں، انہیں طوافِ وداع معاف ہے۔ کسی اور صورت کے بارے میں اپنے عالم صاحب سے پوچھ لیں۔
مدینہ: حج سے پہلے یا بعد میں
مدینہ جانا حج کا حصہ نہیں ہے، لیکن تقریباً ہر حاجی کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ مسجد نبوی میں نماز پڑھے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں سلام پیش کرے۔
فلائٹ کے شیڈول کے حساب سے آپ کا گروپ حج کے دنوں سے پہلے یا بعد میں مدینہ جا سکتا ہے۔ آپ کی روانگی کا پلان آپ کا گروپ بتا دے گا۔
حج کے دنوں میں اپنی حفاظت
- بار بار پانی پئیں، اور دھوپ میں چھتری استعمال کریں
- اپنے گروپ کا آئی ڈی کارڈ یا رِسٹ بینڈ اور خیمے کی تفصیل ہر وقت اپنے پاس رکھیں
- منیٰ میں اپنے خیمے کا نمبر اور گروپ کی ملنے کی جگہ یاد رکھیں
- جب بھی موقع ملے آرام کریں؛ 9 اور 10 ذوالحجہ لمبے دن ہوتے ہیں
- آنے جانے اور رمی کے لیے اپنے گروپ لیڈر کے بتائے وقت پر چلیں، اور چلتی بھیڑ میں کبھی نہ رکیں، نہ بیٹھیں
یہ صرف ایک آسان خاکہ ہے۔ مسلکوں میں مسئلوں کی رائے الگ الگ ہے، اس لیے سفر سے پہلے حج کا طریقہ کسی مستند عالم سے ضرور سیکھ لیں۔
سوال و جواب
انڈیا کے حاجی عام طور پر حجِ تمتع کرتے ہیں: پہنچ کر عمرہ کرتے ہیں، احرام کھول دیتے ہیں، اور 8 ذوالحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھتے ہیں۔ آپ کے لیے صحیح نیت کون سی ہے، یہ آپ کے عالم صاحب کنفرم کریں گے۔
ہماری سائٹ پر مزید
یہ عام سفری معلومات ہے۔ دینی مسئلوں کے لیے کسی عالم سے پوچھ لیں۔





