اس صفحے پر
اہم باتیں
- عمرہ کے چار بڑے کام ہیں: نیت کے ساتھ احرام، طواف، سعی، اور بال منڈوانا یا کٹوانا۔
- ممبئی سے فلائٹ میں جانے والے زائرین عام طور پر جہاز میں بیٹھنے سے پہلے احرام کے کپڑے پہن لیتے ہیں، اور جہاز کے میقات پار کرنے سے پہلے نیت کر لیتے ہیں۔
- طواف میں خانہ کعبہ کے سات چکر ہوتے ہیں — حجرِ اسود کی لائن سے شروع کریں، اور کعبہ آپ کے بائیں طرف رہے۔
- سعی میں صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر ہوتے ہیں — صفا سے شروع، مروہ پر ختم۔
- تفصیلی مسئلوں میں مسلکوں کی رائے الگ الگ ہے، اس لیے سفر سے پہلے عمرہ کا طریقہ کسی مستند عالم سے سیکھ لیں۔
گھر سے نکلنے سے پہلے: غسل اور احرام
احرام وہ پاک حالت ہے جس میں زائر عمرہ کے لیے داخل ہوتا ہے۔ اس کی تیاری گھر پر ہی کر لیں: ناخن کاٹ لیں، غیر ضروری بال صاف کر لیں، اور احرام کے کپڑے پہننے سے پہلے غسل کر لیں۔
مردوں کا احرام دو سادہ، بغیر سلی سفید چادریں ہیں: ایک کمر پر باندھی جاتی ہے (ازار یا تہبند)، اور ایک کندھوں پر ڈالی جاتی ہے (ردا)، ساتھ میں سادہ چپل۔ سر کھلا رہتا ہے۔
خواتین کے لیے احرام کا کوئی خاص لباس نہیں ہے۔ آپ اپنے عام، ڈھیلے اور پردے والے کپڑے پہنیں جو پورا جسم ڈھانپیں، کسی بھی سادہ رنگ میں۔ خواتین سے جڑی تفصیل آپ کے عالم صاحب سمجھا دیں گے۔
نیت کرنے کے بعد، عمرہ پورا ہونے تک کچھ چیزوں سے بچنا ہوتا ہے:
- خوشبو، اور خوشبو والا صابن یا کریم
- بال یا ناخن کاٹنا
- میاں بیوی والے تعلقات
- جھگڑا، سخت باتیں، اور ہر وہ کام جس سے دوسروں کو تکلیف ہو
- مردوں کے لیے: سر ڈھانپنا اور سلے ہوئے کپڑے پہننا
اپنے ہینڈ بیگ میں احرام کا ایک فالتو سیٹ اور بغیر خوشبو والا صابن رکھیں۔ کپڑے کب بدلنے ہیں، یہ آپ کے گروپ لیڈر یاد دلا دیں گے۔
میقات اور نیت
میقات مکہ کے چاروں طرف ایک حد ہے۔ عمرہ کے لیے آنے والا زائر احرام کے بغیر یہ حد پار نہیں کرتا۔ ممبئی سے جدہ کی فلائٹ اترنے سے پہلے ہوا میں ہی میقات پار کر لیتی ہے۔
اسی لیے زیادہ تر زائرین احرام کے کپڑے گھر پر یا ممبئی ایئرپورٹ پر پہن لیتے ہیں، اور جب جہاز کا عملہ یا گروپ لیڈر اعلان کرے کہ میقات قریب ہے، تب جہاز میں ہی عمرہ کی نیت کرتے ہیں۔
نیت دل سے ہوتی ہے۔ بہت سے زائرین آسان لفظوں میں زبان سے بھی کہتے ہیں، جیسے “لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ عُمْرَةً” (اے اللّٰہ، میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں)۔
اپنی فلائٹ میں ٹھیک کب نیت کرنی ہے، یہ اپنے گروپ لیڈر یا عالم صاحب سے پوچھ لیں۔ اسے جدہ اترنے کے بعد تک نہ چھوڑیں۔
تلبیہ
نیت کے بعد زائرین بار بار تلبیہ پڑھتے ہیں: جہاز میں، بس میں، اور حرم کے راستے میں۔ مرد اونچی آواز سے پڑھتے ہیں، اور خواتین دھیمی آواز سے۔
لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ۔
اس کا مطلب: “میں حاضر ہوں، اے اللّٰہ، میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک ساری تعریف، ساری نعمتیں اور ساری بادشاہی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔”
طواف شروع کرتے وقت زائرین عام طور پر تلبیہ پڑھنا بند کر دیتے ہیں۔
عمرہ کا طریقہ، قدم بہ قدم
- 1
قدم 1
مسجد الحرام میں داخل ہوں
ہوٹل پہنچ کر تھوڑا آرام کریں، پھر اپنے گروپ کے ساتھ حرم جائیں۔ داہنا پیر پہلے اندر رکھیں اور مسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھیں۔ پہلے سے ملنے کی ایک جگہ طے کر لیں، تاکہ کوئی بچھڑ جائے تو وہاں مل سکے۔
- 2
قدم 2
طواف: خانہ کعبہ کے سات چکر
حجرِ اسود کی لائن سے شروع کریں، جس کی نشانی عام طور پر دیوار پر ہری لائٹ ہوتی ہے۔ اس کی طرف منہ کریں، ہاتھ اس کی طرف اٹھا کر “بسم اللّٰہ، اللّٰہ اکبر” کہیں، پھر اس طرح چلیں کہ کعبہ آپ کے بائیں طرف رہے۔ ہر چکر اسی لائن پر واپس آ کر پورا ہوتا ہے۔ سات چکر پورے کریں، اور کسی بھی زبان میں دعا کرتے رہیں۔ اس طواف میں مرد عام طور پر داہنا کندھا کھلا رکھتے ہیں۔
- 3
قدم 3
دو رکعت نماز
ساتویں چکر کے بعد مرد داہنا کندھا پھر سے ڈھک لیں۔ دو رکعت نماز پڑھیں — جگہ ہو تو مقامِ ابراہیم کے پیچھے، اور بھیڑ ہو تو مسجد میں کہیں بھی۔ طواف کرنے والوں کے راستے میں نہ رکیں۔
- 4
قدم 4
زمزم پئیں
زمزم کا پانی پئیں، جو پوری مسجد میں رکھے کولروں میں ملتا ہے، اور پیتے وقت دعا کریں۔
- 5
قدم 5
صفا اور مروہ کے درمیان سعی
صفا کی پہاڑی پر جائیں، کعبہ کی طرف منہ کریں، اللّٰہ کی حمد کریں اور دعا مانگیں۔ پھر مروہ تک چلیں — یہ ایک چکر ہوا۔ مروہ سے واپس صفا تک دوسرا چکر۔ اس طرح سات چکر پورے کریں، آخری چکر مروہ پر ختم ہوگا۔ ہری لائٹوں کے بیچ مرد تیز قدموں سے چلتے ہیں، اور خواتین عام رفتار سے۔ جو زیادہ نہیں چل سکتے، ان کے لیے اوپر کی منزلیں اور وہیل چیئر کام آتی ہیں۔
- 6
قدم 6
حلق یا تقصیر (بال کٹوانا)
مرد سر منڈوائیں (حلق)، جو بہتر ہے، یا بال چھوٹے کروا لیں (تقصیر)۔ خواتین اپنے بال اکٹھا کر کے سروں سے تقریباً انگلی کے ایک پور کے برابر کاٹ لیں، پردے میں۔ اس سے آپ کا عمرہ پورا ہو جاتا ہے، اور احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
کچھ تفصیلی مسئلوں میں مسلکوں کی رائے الگ الگ ہے۔ یہ صرف ایک آسان خاکہ ہے۔ سفر سے پہلے عمرہ کا طریقہ کسی مستند عالم سے ضرور سیکھ لیں۔
ان غلطیوں سے بچیں
- فلائٹ میں نیت کیے بغیر میقات پار کر لینا
- حجرِ اسود کی لائن کے بجائے کسی اور جگہ سے طواف شروع کرنا
- طواف کے دوران حطیم کے اندر سے گزرنا (کعبہ کے پاس نیچی، گول دیوار والا حصہ، جسے حجرِ اسماعیل بھی کہتے ہیں) — طواف اس کے باہر سے ہوتا ہے
- چکر گننا بھول جانا؛ چھوٹا کاؤنٹر یا تسبیح اس میں مدد کرتی ہے
- حجرِ اسود یا کعبہ کو چھونے کے لیے دوسروں کو دھکا دینا یا تکلیف پہنچانا
- بال کٹوانا بھول جانا، یا سعی پوری ہونے سے پہلے ہی کٹوا لینا
- ملنے کی جگہ طے کیے بغیر، یا فون چارج کیے بغیر گروپ سے الگ ہو جانا
عمرہ کے بعد
بال کٹوانے کے بعد آپ اپنے عام کپڑے پہن سکتے ہیں۔ آرام کریں، کھانا کھائیں اور پانی پیتے رہیں۔ پہلا عمرہ اکثر لمبے سفر کے فوراً بعد ہوتا ہے۔
باقی دنوں میں اپنا وقت حرم میں نماز، نفلی طواف، قرآن اور دعا میں لگائیں۔ آپ کا گروپ مدینہ بھی جائے گا۔ یہ عمرہ کا حصہ نہیں ہے، لیکن سفر کا بہت پیارا حصہ ہے۔ پچھلے کچھ سیزن کی اطلاع کے مطابق، مسجد نبوی میں روضہ کی زیارت کے لیے نسک ایپ میں سلاٹ بک کرنا پڑتا ہے؛ مدد کے لیے ہماری ٹیم سے کہہ دیں۔
اگر آپ وہاں رہتے ہوئے ایک اور عمرہ کرنا چاہیں، تو پہلے اپنے عالم صاحب سے پوچھ لیں۔
سوال و جواب
طواف، نماز اور سعی ملا کر عام طور پر 2 سے 4 گھنٹے لگتے ہیں — یہ بھیڑ، آپ کس منزل پر ہیں اور کتنا تیز چلتے ہیں، اس پر منحصر ہے۔ بزرگوں کو زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اور کوئی جلدی نہیں ہے۔
ہماری سائٹ پر مزید
یہ عام سفری معلومات ہے۔ دینی مسئلوں کے لیے کسی عالم سے پوچھ لیں۔





