سیدھے مواد پر جائیں
حج 2027 کی رجسٹریشن شروع ہے

زیارت

مکہ اور مدینہ کی زیارت کی جگہیں: تاریخ اور کام کے مشورے

مکہ اور مدینہ کی زیارت کی جگہیں آسان لفظوں میں: غارِ حرا، عرفات، مسجد قبا، اُحد، جنت البقیع اور بہت کچھ — مختصر تاریخ اور فیملی کے لیے مشوروں کے ساتھ۔

8 منٹ · اپڈیٹ: اکتوبر 2026Read in English

اس صفحے پر
  1. 1مکہ اور مدینہ کی زیارت کی جگہیں — ایک نظر میں
  2. 2جبل نور اور غارِ حرا
  3. 3جبل ثور: ہجرت والا غار
  4. 4عرفات، مزدلفہ اور منیٰ: حج کی جگہیں
  5. 5تنعیم میں مسجد عائشہ
  6. 6مسجد قبا اور مسجد قبلتین
  7. 7اُحد پہاڑ اور شہدائے اُحد
  8. 8جنت البقیع، سات مسجدیں اور کھجور کے باغ
  9. 9بس سے دیکھنا، تھوڑا پیدل یا چڑھائی؟ دن کا پلان
  10. 10زیارت کی جگہوں پر ادب
  11. 11سوال و جواب

اہم باتیں

  • مکہ میں گروپ عام طور پر ایک ہی صبح میں جبل نور، جبل ثور، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ دیکھتے ہیں، زیادہ تر بس سے ہی۔
  • مدینہ میں عام طور پر مسجد قبا، مسجد قبلتین، اُحد پہاڑ اور جنت البقیع جاتے ہیں۔
  • زیادہ تر جگہوں پر بس تھوڑا سا پیدل چلنا ہوتا ہے۔ غارِ حرا یا جبل ثور پر چڑھنا الگ اور سخت چڑھائی ہے، صرف تندرست لوگوں کے لیے۔
  • صبح کے وقت جائیں، پانی ساتھ رکھیں، اور جہاں چڑھائی یا لمبا پیدل راستہ ہو وہاں بزرگوں کو بس میں ہی بیٹھے رہنے دیں۔
  • زیارت عمرہ کے ارکان کا حصہ نہیں ہے۔ کسی بھی جگہ سے جڑا دینی سوال ہو تو کسی مستند عالم سے پوچھیں۔

مکہ اور مدینہ کی زیارت کی جگہیں — ایک نظر میں

زیارت کا مطلب ہے ان جگہوں پر جانا جو نبی کریم ﷺ اور شروع کے مسلمانوں کی زندگی سے جڑی ہیں۔ یہ عمرہ کے ارکان میں شامل نہیں، لیکن اس سے سیرت آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے: وہ پہاڑ جہاں پہلی وحی آئی، وہ غار جہاں ہجرت کے سفر میں نبی کریم ﷺ نے پناہ لی، اور وہ میدان جہاں اُحد کے شہید آرام فرما ہیں۔ یہاں مکہ اور مدینہ کی وہ زیارت کی جگہیں ہیں جہاں انڈیا کے زائرین سب سے زیادہ جاتے ہیں، ہر جگہ کی تھوڑی سی تاریخ اور کام کے مشوروں کے ساتھ۔

  • مکہ: جبل نور (غارِ حرا)، جبل ثور، عرفات اور جبلِ رحمت، مزدلفہ، منیٰ، اور تنعیم میں مسجد عائشہ
  • مدینہ: مسجد قبا، مسجد قبلتین، اُحد پہاڑ اور شہدائے اُحد کا قبرستان، جنت البقیع، خندق کی جگہ کے پاس سات مسجدیں، اور کھجور کے باغ

ہمارے ابھی کے پلان میں مکہ میں صبح کے وقت رہنمائی کے ساتھ زیارت ہے (جبل نور، جبل ثور، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ، اور ظہر سے پہلے واپسی)، اور مدینہ میں رہنمائی کے ساتھ زیارت (مسجد قبا، مسجد قبلتین، اُحد پہاڑ اور جنت البقیع)۔ صحیح جگہیں اور دن آپ کی روانگی کے ہفتے کے حساب سے کنفرم ہوتے ہیں۔

جبل نور اور غارِ حرا

جبل نور، یعنی روشنی کا پہاڑ، مسجد الحرام سے چند کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ اس کی چوٹی کے پاس غارِ حرا ہے، جہاں نبوت سے پہلے نبی کریم ﷺ کئی کئی دن اکیلے عبادت کیا کرتے تھے۔ یہیں حضرت جبرئیلؑ قرآن کی پہلی آیتیں لے کر آئے، جو “اِقْرَأْ” (پڑھیے) سے شروع ہوتی ہیں۔

اوپر کا راستہ سیدھی چڑھائی والا ہے، بہت سی سیڑھیاں ہیں، اور چڑھنے میں ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ لگ سکتا ہے۔ گروپ عام طور پر پہاڑ کے نیچے ہی رکتے ہیں۔ کوئی تندرست آدمی چڑھنا چاہے تو صبح سویرے پانی لے کر جائے؛ بزرگوں کے لیے، یا دل یا گھٹنے کی تکلیف والوں کے لیے یہ چڑھائی ٹھیک نہیں۔

جبل ثور: ہجرت والا غار

جبل ثور مکہ کے جنوب میں ہے۔ جب نبی کریم ﷺ مکہ سے مدینہ ہجرت کے لیے نکلے تو آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ تین راتیں اس کی چوٹی کے پاس ایک غار میں چھپے رہے، اور قریش انہیں ڈھونڈتے رہے۔ قرآن میں سورۂ توبہ (9:40) میں اس واقعے کا ذکر ہے۔

یہ پہاڑ جبل نور سے اونچا ہے اور چڑھائی بھی لمبی ہے، اس لیے گروپ اسے عام طور پر بس سے یا پاس میں تھوڑی دیر رک کر دیکھتے ہیں۔

عرفات، مزدلفہ اور منیٰ: حج کی جگہیں

مکہ کی زیارت میں بس عام طور پر ان تینوں جگہوں سے گزرتی ہے جہاں حج کے خاص دن گزرتے ہیں۔ حج کے علاوہ دنوں میں یہاں سناٹا رہتا ہے، اس لیے سکون سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

عرفات مکہ سے تقریباً 20 کلومیٹر مشرق میں ایک کھلا میدان ہے۔ 9 ذی الحجہ کو یہاں ٹھہرنا حج کی جان ہے، اور نبی کریم ﷺ نے اپنے حج میں عرفات ہی میں خطبۂ حجۃ الوداع دیا تھا۔ جبلِ رحمت میدان میں ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جہاں بہت سے لوگ رکتے ہیں؛ اس پر چڑھنا نہ عمرہ کا حصہ ہے نہ حج کا۔

مزدلفہ عرفات اور منیٰ کے بیچ ہے۔ عرفہ کے دن کے بعد حاجی یہاں کھلے آسمان کے نیچے رات گزارتے ہیں، اور بہت سے لوگ رمی کی کنکریاں یہیں سے چنتے ہیں۔

منیٰ حرم سے چند کلومیٹر پر سفید خیموں کی وادی ہے، جہاں حج کے دنوں میں حاجی ٹھہرتے ہیں۔ جمرات، یعنی وہ تین ستون جن پر حاجی کنکریاں مارتے ہیں، منیٰ میں ہیں، اور مسجد خیف بھی یہیں ہے۔

تنعیم میں مسجد عائشہ

مسجد عائشہ تنعیم میں ہے، مکہ کے شمال میں، حرم کی حد سے ذرا باہر۔ اس کا نام حضرت عائشہؓ کے نام پر ہے: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے انہیں ان کے بھائی حضرت عبدالرحمٰنؓ کے ساتھ تنعیم بھیجا تھا، تاکہ وہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھیں۔

آج مکہ میں رہنے والے جو زائرین ایک اور عمرہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اکثر احرام باندھنے یہیں آتے ہیں، کیونکہ یہ حرم سے تھوڑی ہی دور ہے۔ ہمارے پلان میں، جو چاہیں ان کے لیے، ہماری ٹیم کی مدد سے مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر دوسرا عمرہ رکھا گیا ہے۔ عمرہ دوبارہ کرنا چاہیے یا نہیں، اور کتنی بار، یہ اپنے عالم صاحب سے پوچھ لیں۔

مسجد قبا اور مسجد قبلتین

مسجد قبا اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہے۔ ہجرت کے سفر میں مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے جب نبی کریم ﷺ قبا پہنچے تو آپ ﷺ نے اس کی بنیاد رکھی، اور بعد میں بھی یہاں آتے رہے، اکثر ہفتے کے دن۔ ایک مشہور حدیث کی وجہ سے بہت سے زائرین ہوٹل سے وضو کر کے آتے ہیں اور یہاں دو رکعت پڑھتے ہیں۔

مسجد قبلتین، یعنی دو قبلوں والی مسجد، قبلہ بدلنے کے واقعے سے جڑی ہے۔ مشہور روایت کے مطابق ہجرت کے دوسرے سال یہیں ایک نماز کے دوران بیت المقدس سے کعبہ کی طرف رخ پھیرنے کا حکم آیا تھا۔

دونوں مسجدیں مسجد نبوی سے تھوڑی ہی دور ہیں، اور بس سے مسجد تک تھوڑا سا پیدل چلنا ہوتا ہے۔

اُحد پہاڑ اور شہدائے اُحد

اُحد مدینہ کے شمال میں سرخی مائل رنگ کا بڑا پہاڑ ہے۔ ہجرت کے تیسرے سال اس کے دامن میں غزوۂ اُحد ہوا تھا۔ یہاں تقریباً ستر صحابہ شہید ہوئے، جن میں نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ بھی تھے، اور وہ پہاڑ کے پاس والے قبرستان میں دفن ہیں۔

قبرستان کے سامنے چھوٹی سی جبلِ رماۃ (تیر اندازوں کی پہاڑی) ہے، جہاں نبی کریم ﷺ نے تیر اندازوں کو کھڑا کیا تھا اور اپنی جگہ نہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ جب ان میں سے کچھ نے جگہ چھوڑ دی تو جنگ کا پانسہ پلٹ گیا — حکم ماننے کا یہ سبق آج بھی گائیڈ زائرین کو سناتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اُحد کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔

قبرستان پر زائرین جالی کے پاس کھڑے ہو کر شہیدوں کو سلام کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔ یہاں کی حاضری خاموشی اور سادگی سے کریں۔

جنت البقیع، سات مسجدیں اور کھجور کے باغ

جنت البقیع مدینہ کا پرانا قبرستان ہے، بالکل مسجد نبوی کے پاس۔ یہاں بہت سے صحابہ دفن ہیں، جن میں حضرت عثمان غنیؓ بھی ہیں، اور نبی کریم ﷺ کی کئی ازواجِ مطہرات اور آپ ﷺ کے گھر والے بھی۔ اطلاع کے مطابق مرد مقررہ وقت پر اندر جا سکتے ہیں، اکثر فجر اور عصر کے بعد، اور خواتین عام طور پر باہر سے ہی دیکھتی ہیں۔ وقت بدلتا رہتا ہے، اس لیے اُسی دن پوچھ لیں۔

سات مسجدیں غزوۂ خندق کی جگہ کے پاس ہیں، جو ہجرت کے پانچویں سال ہوا تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے پر مسلمانوں نے شہر کی حفاظت کے لیے مدینہ کی کھلی شمالی طرف خندق کھودی تھی۔ آج وہاں کچھ چھوٹی مسجدیں ہیں، اور ان کے پاس ایک بڑی نئی مسجد بھی بنی ہے۔

مدینہ اپنی کھجوروں کے لیے مشہور ہے، اور بہت سے گروپ کسی کھجور کے باغ یا کھجور بازار پر رکتے ہیں، تاکہ زائرین گھر کے لیے عجوہ اور دوسری کھجوریں خرید سکیں۔ خریدنے سے پہلے چکھ لیں، اور دیکھ لیں کہ فلائٹ میں کتنا وزن لے جا سکتے ہیں۔

بس سے دیکھنا، تھوڑا پیدل یا چڑھائی؟ دن کا پلان

زیارت کا دن تب آسان رہتا ہے جب پہلے سے پتہ ہو کہ کس جگہ کیا کرنا ہے۔ زیارت میں عام طور پر ہر شہر میں کچھ گھنٹے لگتے ہیں، اس لیے آرام اور نمازوں کا پلان اسی کے حساب سے بنائیں۔

  • بس سے یا تھوڑی دیر رک کر: عرفات، مزدلفہ، منیٰ اور جبل ثور
  • بس سے تھوڑا پیدل: مسجد قبا، مسجد قبلتین، اُحد کا قبرستان اور سات مسجدیں
  • اصل چڑھائی: جبل نور پر غارِ حرا اور جبل ثور کا غار؛ صرف تندرست لوگوں کے لیے، صبح سویرے، اور یہ عام گروپ زیارت کا حصہ نہیں
  • دھوپ: صبح نکلیں اور دوپہر سے پہلے لوٹ آئیں؛ ٹھنڈے مہینوں میں بھی دھوپ تیز ہوتی ہے
  • بزرگ: جہاں چڑھائی یا لمبا پیدل راستہ ہو، وہاں وہ بس میں ہی بیٹھے رہ سکتے ہیں

کام ہوتے جائیں تو ٹِک کرتے جائیں؛ یہ اسی فون میں محفوظ رہتے ہیں۔

زیارت کی جگہوں پر ادب

یہ جگہیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، اور یہاں ہمارا رویہ بھی اہم ہے۔ سیدھی سادی زیارت کریں: واقعہ سمجھیں، اپنے لیے، گھر والوں کے لیے اور پوری امت کے لیے دعا کریں، اور وہاں لگے بورڈ اور گارڈ کی بات مانیں۔

  • پتھروں یا دیواروں پر نام نہ لکھیں، اور یادگار کے طور پر پتھر یا مٹی نہ اٹھائیں
  • دھکا نہ دیں، اور قبرستان یا مسجد کی جالی پر نہ چڑھیں
  • کپڑے پردے والے ہوں، اور آواز دھیمی رکھیں، خاص کر قبرستان میں
  • اپنے گروپ کے ساتھ رہیں، اور وقت پر بس میں واپس آئیں
  • کسی جگہ پر کیا کرنا صحیح ہے، یہ معلوم نہ ہو تو بھیڑ کی نقل کرنے کے بجائے کسی مستند عالم سے پوچھیں

سوال و جواب

زیادہ تر گروپ جبل نور (غارِ حرا)، جبل ثور، جبلِ رحمت کے ساتھ عرفات، مزدلفہ اور منیٰ دیکھتے ہیں، عام طور پر ایک ہی صبح میں بس سے۔ تنعیم کی مسجد عائشہ وہ لوگ جاتے ہیں جو ایک اور عمرہ کرنا چاہتے ہیں۔

ہماری سائٹ پر مزید

یہ عام سفری معلومات ہے۔ دینی مسئلوں کے لیے کسی عالم سے پوچھ لیں۔

ابھی رابطہ کریں

اپنے سفر کے بارے میں سوال؟

تھوڑی تفصیل بھیجیں — ہماری ٹیم تاریخ، سیٹ اور صحیح پیکیج کے ساتھ آپ کو کال یا واٹس ایپ کرے گی۔ یا ناسک آفس تشریف لائیں، صبح 11 سے شام 7۔

رابطہ فارم

ہم کال یا واٹس ایپ پر جواب دیں گے۔

رابطے کے لیے کوئی پیمنٹ یا کاغذ نہیں چاہیے۔

Office No. B-109, First Floor, Viraj Capital, Opp. SBI Bank, Shingada Talav, Renuka Nagar, Nashik, Maharashtra 422001